نماز کے بعد امام اور مقتدیوں کا آپس میں مصافحہ (ہاتھ ملا کر سلام) کرنا

نماز کے بعد امام اور مقتدیوں کا آپس میں مصافحہ (ہاتھ ملا کر سلام) کرنا 


 جب ہم نماز پڑھتے ہیں امام کے پیچھے جب ہماری سب کی

 نمازیوں کی نماز مکمل ہوئی ہوتی ہے تو ہم جو مسجد کے امام ہوتے ہیں ان سے گلے ملتے ہیں اور ان سے ہاتھ سے اسلام لیتے ہیں اور باقی جو نمازی ہے سب جو ہوتے ہیں جو نماز پڑھنے اتے ہیں ان کے ساتھ ملتے ہیں ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے اس کے کیا بینیفٹ ہیں 

اس کی ہسٹری اس کی بائیوگرافی کیا ہے

بہت خوبصورت سوال پوچھا ہے آپ نے۔ نماز کے بعد امام اور مقتدیوں کا آپس میں مصافحہ (ہاتھ ملا کر سلام) کرنا اور ملاقات کرنا ایک بہت ہی اچھا عمل ہے۔ ذیل میں اس کے معنی، فوائد، تاریخ اور تفصیلات پیش ہیں۔


اس عمل کا کیا مطلب ہے؟


نماز کے بعد امام اور دوسرے نمازیوں سے گلے ملنا اور ہاتھ ملا کر سلام کرنا دراصل محبت، اخوت اور بھائی چارے کا اظہار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے:


· ایمان کی خوشی: ہم سب نے مل کر اللہ کی عبادت کی، اس خوشی کا اظہار

· دعا: ایک دوسرے کے لیے دعا کرنا کہ اللہ قبول فرمائے

· اتحاد: مسلمانوں کے درمیان محبت اور اتحاد کو مضبوط کرنا


یہ عمل دراصل "مصافحہ" کہلاتا ہے، جس کے بارے میں حدیث میں بہت فضیلت آئی ہے۔


مصافحہ (ہاتھ ملانے) کی فضیلت - احادیث کی روشنی میں


مصافحہ کے بارے میں بہت سی احادیث موجود ہیں جو اس کی اہمیت بتاتی ہیں:


حدیث 1: گناہوں کا جھڑنا


حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


"جب دو مسلمان آپس میں ملتے اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔"

(سنن ابی داؤد، حدیث: 5212)


حدیث 2: بخشش کا وعدہ


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے اور اس سے مصافحہ کرتا ہے تو کیا اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:


"جب وہ مصافحہ کرتے ہیں تو ان کی بخشش کردی جاتی ہے۔"

(سنن الترمذی، حدیث: 2728)


حدیث 3: بغض و کینہ کا خاتمہ


نبی کریم ﷺ نے فرمایا:


"آپس میں مصافحہ کرو، بغض و کینہ ختم ہو جائے گا۔ اور ہدیہ (تحفہ) دیا کرو، آپس میں محبت بڑھے گی اور دشمنی ختم ہو جائے گی۔"

(موطا امام مالک، حدیث: 1761) 


نماز کے بعد مصافحہ کا حکم (Ruling)


علمائے کرام نے نماز کے بعد مصافحہ کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے:


جمہور علماء کا موقف:


مصر کے مفتی اعظم شیخ علی جمعہ فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد مصافحہ کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ کسی بھی عالم نے اسے ناجائز نہیں کہا .


امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:


· اگر آپ اس شخص سے نماز سے پہلے نہیں ملے تھے تو مصافحہ کرنا سنت ہے

· اگر پہلے مل چکے تھے تو مصافحہ کرنا جائز ہے (بدعت نہیں) 


علامہ ابن عابدین شامی حنفی فرماتے ہیں کہ حنفی مسلک کے مطابق ہر حالت میں مصافحہ کرنا مستحب ہے .


دلیل:


امام طبری نے اس حدیث سے دلیل لی جو حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:


"رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی، پھر لوگ اٹھے اور آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے چہرے پر پھیرا، وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔"

(صحیح بخاری، حدیث: 3553) 


امام طبری فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے نماز کے بعد مصافحہ کرنا ثابت ہے، خاص کر عصر اور مغرب کی نماز کے بعد .


نماز کے بعد گلے ملنے اور بات چیت کے فوائد


دینی فوائد:


1. گناہوں کی معافی: حدیث کے مطابق مصافحہ کرنے سے گناہ جھڑ جاتے ہیں

2. محبت میں اضافہ: دلوں سے کینہ ختم ہوتا ہے

3. دعا کا تبادلہ: ایک دوسرے کے لیے دعا "تقبل اللہ" (اللہ قبول فرمائے)

4. جماعت کی برکت: مسلمانوں کے درمیان الفت بڑھتی ہے


معاشرتی فوائد:


1. تعلقات میں مضبوطی: لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں

2. مسجد کا ماحول خوشگوار: آنے والوں کو محبت ملتی ہے

3. نئے لوگوں سے شناسائی: اجنبی مسلمان بھائیوں سے ملاقات

4. مسائل کا حل: لوگ آپس میں بات کر کے مسائل حل کرتے ہیں


اس عمل کی تاریخ (History)


صحابہ کرام کا دور:


حضرت قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "کیا صحابہ کرام آپس میں مصافحہ کیا کرتے تھے؟" تو انہوں نے فرمایا: "ہاں" 


حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہونے کے بعد جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ دوڑ کر گئے اور ان سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی .


ائمہ کرام کا دور:


امام نووی رحمہ اللہ (وفات 676ھ) نے اپنی کتاب "الاذکار" میں لکھا:


"معلوم رہے کہ ہر ملاقات میں مصافحہ کرنا مستحب ہے۔ فجر اور عصر کے بعد جو مصافحہ کا معمول ہے، اس کی کوئی اصل نہیں، لیکن اس میں کوئی حرج نہیں" .


علامہ عز بن عبدالسلام رحمہ اللہ (وفات 660ھ) نے بدعت کی پانچ اقسام بیان کیں اور فرمایا:


"فجر اور عصر کے بعد مصافحہ کرنا بدعت مباحہ (جائز بدعت) کی مثال ہے" .


اہم بات: نیت کا خیال رہے


شیخ احمد کٹی صاحب فرماتے ہیں کہ اس عمل میں نیت بہت اہم ہے :


· اگر کوئی یہ سمجھے کہ نماز مکمل ہونے کے لیے مصافحہ ضروری ہے، تو یہ غلط ہے

· اگر محبت اور دعا کی نیت سے کیا جائے تو بہترین عمل ہے


نماز کے بعد مصافحہ کرتے ہوئے دل میں یہ نیت ہو کہ:


· "یا اللہ! میری اور میرے بھائی کی نماز قبول فرما"

· "ہمارے درمیان محبت اور اخوت برقرار رکھ"


نماز کے بعد کی دعائیں


نماز کے بعد درج ذیل امور کا خیال رکھیں:


عمل طریقہ

ذکر و اذکار پہلے اپنے اذکار پڑھیں (استغفار، آیۃ الکرسی، تسبیحات)

دعا ہاتھ اٹھا کر دعا کریں

مصافحہ دعا کے بعد امام اور قریب والوں سے مصافحہ کریں

ملاقات دوسرے نمازیوں سے مل کر سلام کریں اور خیریت دریافت کریں

تقبل اللہ ایک دوسرے کو "تَقَبَّلَ اللہُ" (اللہ قبول فرمائے) کہیں


خلاصہ


نماز کے بعد امام اور دوسرے نمازیوں سے گلے ملنا اور مصافحہ کرنا:


· جائز بلکہ مستحب عمل ہے 

· اس کی اصل سنت میں موجود ہے 

· اس کے بے شمار فوائد ہیں: گناہوں کی معافی، محبت میں اضافہ، کینہ کا خاتمہ 

· صحابہ کرام کا عمل رہا ہے 

· ائمہ کرام نے اسے جائز قرار دیا 

· نیت درست ہونی چاہیے کہ یہ نماز کا حصہ نہیں بلکہ محبت کا اظہار ہے 


اللہ ہم سب کو باہمی محبت اور اخوت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


---


کیا آپ مزید دعائیں یا نماز کے بعد کے دیگر اعمال کے بارے میں جاننا چاہیں گے؟

Comments